ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بلند شہر میں معمر مسلم شخص کا بے دردی سے پیٹ پیٹ کر قتل 

بلند شہر میں معمر مسلم شخص کا بے دردی سے پیٹ پیٹ کر قتل 

Thu, 04 May 2017 13:11:40    S.O. News Service

بلندشہر 3؍ مئی ( ایجنسی ) وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تنظیم ’’ہندو یوا واہنی‘‘ کے کارکنوں نے منگل کو ایک 62؍ سالہ بزرگ مسلم شہر غلام محمد کو صرف اسلئے لاٹھی اور ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر مارڈالا کہ ان کے بھتیجے پر ایک غیر مسلم لڑکی کے ساتھ فرار ہوجانے کا الزام ہے۔ حملہ آوروں کی تعداد 10؍ بتائی جارہی ہے تا ہم پولیس نے اس معاملے میں ایک شخص کے خلاف نامزد اور ہندویاواہنی کے 6؍ نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کیا ہے ۔ اس واردات کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے جبکہ مہلوک کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ انہیں بھی قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں جس کی وجہ وہ نقل مکانی پر غور کررہے ہیں ۔ اس بیچ بدھ کو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 3؍ ملزمین کو گرفتار کیا تو ہندو یواواہنی کے ضلعی صدر نے پولیس انتظامیہ کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادینے کی دھمکی دی ہے۔ 

منگل کو اس سانحہ کی اطلاع ملتے ہیں ڈی آئی جی زون میرٹھ ، ایس ایس پی اور ضلع مجسٹریٹ نے جائے واردات کا جائزہ لیا اور ماتحتو ں کو سخت ہدایات دیں۔ احتیاطاً گاؤں میں پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پہا سو قصبہ کے ایک گاؤں میں اکثریتی فرقہ کی لڑکی ایک ہفتہ قبل اقلیتی فرقہ کے نوجوان یوسف کے ساتھ فرار ہوگئی تھی جس کی سزا لڑکے کے معمر چچا اور پڑوسی غلام محمد کو دی گئی ۔ فرار ہونے والی لڑکی 18؍ سال کی بالغ شہر ی ہے تا ہم اس کے اہل خانہ نے پولیس میں اغواء کا کیس درج کرایا ہے۔ 

یادرہے کہ ڈیڑھ ماہ قبل بھی پہا سو قصبہ کی فضا اس وقت مکدر ہوگئی تھی، جب اقلیتی فرقہ کے ایک نوجوان نے حیدر آباد سے وزیر اعظم نریندر کے خلاف نازیبا کلمات کی کلپ وہاٹس ایپ پر وائرل کی تی۔ اس وقت شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے بازار میں اقلیتی فرقہ کے لوگوں سے مارپیٹ کی تھی اور ان کی دکانوں میں توڑ پھوڑ مچائی تھی۔ منگل کو بے دردی سے پیٹ پیٹ کر قتل کئے گئے 62؍ سالہ غلام محمد پر لڑکی والوں اور یواواہنی کے کارکنوں کو شبہ تھا کہ وہ مفرور عاش جوڑے کی مدد کررہے ہیں۔ اسی شبہ کی بنیاد پر منگل کو لڑکی کے گھر والے اور ہندویواواہنی کے کارکنوں نے پہلے غلام محمد کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور پھر ان کے آم کے باغ میں پہنچ کر لاٹھی اور ڈنڈوں سے انہیں اس بری طرح پیٹا کہ وہ تاب نہ لاس کے اور چل بسے۔ 

پولیس کے مقامی سرکل آٖیسری نے بتایا کہ ’’ غلام محمد کے بیٹے یاسین نے بتایا کہ جب وہ والد کو ڈھونڈتے ہوئے اپنے آم کے باغ کی طرف جہارہا تھا تو باغ سے کچھ دوری پر اس نے اپنے ہی گاؤں میں رہنے والے گویندر سنگھ اور 6؍ دیگر افراد کو موٹر سائیکلوں پر باغ سے نکل کر جاتے ہوئے دیکھا ۔ اس کے مطابق جب وہ آگے بڑھا اور باغ میں پہنچا تو وہاں اس نے اپنے والد کو زخمی حالت میں پڑا ہوا پایا۔ اس فوری طور پر شور مچایا جس کے بعد گاؤں کے لوگ مدد کیلئے پہنچے اور غلام محمد کو اسپتال پہنچایا گیا مگر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیدیا۔ ‘‘ غلام محمد کے قتل کے بعد ان کے اہل خانہ دہشت زدہ ہیں ۔ الزام ہے کہ ہندویواواہنی کے کارکنوں نے انہیں بھی دھمکیاں دی ہیں جس کے بعد وہ نقل مکانی پر غور کررہے ہیں۔ 

اُدھر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بدھ کو 3؍ افراد کو گرفتار کیا تا ہم گوریندرسنگھ کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی حالانکہ وہ نامزد ملزم ہے۔ پولیس کی کارروائی پر ہندو یواواہنی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گرفتار شد گان کو بے قصور قرار دیا ہے۔ اتناہی نہیں بھگو ا تنظیم کے ضلعی صدر نے اس تنظیم کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے پولیس کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادینے کی دھمکی دی ہے۔ ایس ایس پی منی راج نے بتایا کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ہنی راگھو پلکت اور للت کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ گوریندر ہنوز فرار ہے۔ انہوں نے اطمینان دلاتے ہوئے کہا کہ 15؍ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جلد ہی ملزمین کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آر میں ہندویواواہنی تنظیم کا نام ہے لیکن گرفتار شدگان سے پوچھ گچھ میں کسی تنظیم کا نام سامنے نہیں آیاہے، اگر تنظیم کا نام آتا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مفرور لڑ کا لڑکی کا پتہ لگا لیا گیا ہے جلد ہی ان دونوں کو برآمد کر لیا جائے گا۔ 

مقتول غلام محمد کے خوفزدہ گھر والوں میں سے ایک یاسین نے بتایا کہ ہندو یواواہنی کے لوگوں نے خواتین کے ساتھ بدسلو کی کی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ اب ڈرہے کہ کبھی بھی وہ لوگ حملہ کرسکتے ہیں۔یاسین نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ انہیں تحفظ دے ۔ ورنہ وہ آس پاس کے دیگر مسلم خاندانوں کے ساتھ نقل مکانی کرنے کو مجبور ہوں گے ۔ وہیں مقتول کی بہو شکیلہ کا کہنا ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے غائب ہونے کے بعد سے ہی اکثریتی فرقہ کے لوگ روزانہ آکر دھمکی دے رہے تھے۔ اب وہ لوگ ہمیں کبھی بھی مارسکتے ہیں، اگر پولیس ہماری حفاظت نہیں کرسکتی تو ہم نقل مکانی پر مجبور ہوں گے ۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ البتہ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے حکم پر ان کی پارٹی ایم پی سر کندر نا گر ، ایم ایل سی جتیندر یادو اور ضلع صدر کنور عبدالرت نے گاؤں پہنچ کر متاثرہ خاندان سے ملاقات کی ، ان کی باتیں سنیں اور ہر طرح کی مدد کی یقین دہانی کرائی۔ 

ہندو یواواہنی کے ضلع صدر سنیل راگھو کے مطابق پورے معاملہ میں یوپی کے وزیر اعلیٰ اور ہندویواواہنی کے نام کو بدنام کرنے کی سیاسی چال ہے۔ پولیس کے ذریعہ گرفتار نوجوان بے قصور ہیں۔ سنیل راگھو نے گرفتار نوجوانوں کو پھنسانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس اور اتنظامیہ سرکار بدلنے کے بعد بھی نہیں بدلے ہیں، وقت آنے پر پولیس اور انتظامیہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے گی۔ 


Share: